**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران میں امریکی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ پر امریکا اور اقوام متحدہ کے مؤقف میں اختلاف سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران میں ہونے والے دو امریکی حملوں کے حوالے سے جنگی جرائم کے ارتکاب پر ’’معقول بنیادیں‘‘ موجود ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کے نتائج کو مسترد کردیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع شجَرہ طیبہ پرائمری اسکول پر حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے۔ مشن کے مطابق اسکول ایک واضح شہری تنصیب تھی اور تحقیقات میں اسے فوجی ہدف قرار دینے کے لیے مناسب تصدیق کے شواہد نہیں ملے۔
رپورٹ میں ایران کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے حملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق اس حملے میں 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے اور قریبی شہری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ مشن نے دونوں واقعات کو شہریوں اور شہری تنصیبات کو متاثر کرنے والے غیر امتیازی حملوں کے طور پر بیان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق میناب کے اسکول سے متعلق امریکی حملے میں ہدف سے متعلق معلومات کو اپ ڈیٹ نہ کرنے اور حملے سے قبل عمارت کی عسکری حیثیت کی مناسب تصدیق نہ کرنے کے شواہد سامنے آئے۔ مشن نے ان حالات کو محض غفلت سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے جنگی جرم کے حوالے سے معقول بنیادیں موجود ہونے کا نتیجہ اخذ کیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اقوام متحدہ کے نتائج کو مسترد کردیا۔ ترجمان اینا کیلی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تنازع میں جنگی جرائم کا ارتکاب ایرانی حکومت نے کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اس رپورٹ کے نتائج کو قابلِ اعتبار تسلیم نہیں کیا۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق میناب اسکول واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور اس بارے میں حتمی تحقیقاتی نتائج عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔ امریکی حکام اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ فوجی کارروائیاں جنگی قوانین کے مطابق کی گئیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں کہا تھا کہ اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔
اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں ایرانی حکام پر ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ یوں مشن نے ایران اور امریکا، دونوں کے اقدامات سے متعلق الگ الگ نتائج پیش کیے ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مسلح تنازعات میں شہری آبادی، بچوں، اسکولوں اور دیگر شہری تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی تقاضا ہے۔ کسی بھی فریق کی جانب سے شہریوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ اسی طرح جنگی جرائم سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس کو ان کے قانونی دائرۂ کار کے مطابق سمجھنا اور حتمی عدالتی فیصلے سے الگ رکھنا بھی اہم ہے۔ شہریوں کے تحفظ اور احتساب کے مؤثر نظام کو ترجیح دینا وسیع تر انسانی مفاد میں ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، جنگی تنازعات اور عوامی اہمیت کے معاملات کی آزادانہ صحافتی کوریج جاری رکھنے کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر اقوام متحدہ کے آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن، امریکی حکام اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کا فیکٹ فائنڈنگ مشن ایک تحقیقاتی ادارہ ہے، عدالت نہیں؛ اس لیے رپورٹ میں بیان کردہ نتائج حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہیں۔ امریکی حکومت نے رپورٹ کے نتائج کو مسترد کیا ہے جبکہ متعلقہ امریکی تحقیقات مکمل ہونا باقی ہیں۔ ایران سے متعلق رپورٹ کے بعض نتائج بھی متعلقہ فریق کے مؤقف اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔


