**ینبع/خمیس مشیط — (ایچ آراین ڈبلیو)**یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات اور جنوبی شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق 16 ستمبر کو دو فوجی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ایک کارروائی کے دوران ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں کا ہدف بنایا گیا۔
حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ینبع کی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑکی اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے فوری طور پر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات یا خمیس مشیط ایئربیس پر حملے کی تصدیق نہیں کی۔
خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئربیس سعودی فضائی کارروائیوں کے لیے اہم فوجی مرکز ہے، جبکہ ینبع سعودی عرب کے مغربی ساحل پر تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری راستوں کی سلامتی پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
توانائی کی تنصیبات اور فوجی مراکز پر میزائل و ڈرون حملوں سے شہری آبادی، ماحولیاتی تحفظ اور خطے کی توانائی کی فراہمی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ تمام فریقین کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ دیا جائے اور کسی بھی حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ کشیدگی میں کمی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا بھی اہم ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور عالمی تنازعات کی ذمہ دارانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر بنیادی طور پر حوثی گروپ کے بیان اور دستیاب ابتدائی رپورٹس پر مبنی ہے۔ حملے، براہِ راست ہدف کو نشانہ بننے، آگ لگنے اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کے دعووں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے حملے کی فوری تصدیق بھی سامنے نہیں آئی تھی۔ مزید معلومات آنے پر صورتحال میں تبدیلی ممکن ہے۔


