28

اسلامی الفاظ استعمال کرنے والی بھارتی خاتون IPS افسر کا تبادلہ، ویڈیو پر تنازع

**کولکتہ (ایچ آراین ڈبلیو) —** بھارتی ریاست مغربی بنگال میں خاتون آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کے ایک ویڈیو پیغام کے بعد ان کے تبادلے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ بشریٰ بانو نے ویڈیو میں سول سروسز میں اپنے سفر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی (RCA) سے حاصل ہونے والی مدد کے بارے میں بتایا تھا۔

ویڈیو میں بشریٰ بانو نے **’’السلام علیکم‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘** جیسے اسلامی الفاظ استعمال کیے، جس پر بعض دائیں بازو کی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کیا۔ ایک تنظیم نے مغربی بنگال کے ہوم سیکریٹری سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسر کو عوامی رابطے میں ’’جے ہند‘‘ یا ’’وندے ماترم‘‘ جیسے قومی الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔

تنازع کے دوران بشریٰ بانو، جو کھڑگپور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر تعینات تھیں، کو اسٹیٹ آرمڈ پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کردیا گیا۔ تاہم مغربی بنگال حکومت کے تبادلے کے حکم میں ویڈیو یا شکایت کو تبادلے کی وجہ قرار نہیں دیا گیا، جبکہ ایک سرکاری اہلکار نے اسے معمول کی انتظامی تبدیلی قرار دیا ہے۔

بشریٰ بانو نے ویڈیو میں بتایا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی نے ان کی سول سروسز امتحان کی تیاری میں اہم مدد فراہم کی۔ ان کی ویڈیو کا بنیادی مقصد سول سروسز کے امیدواروں کی حوصلہ افزائی اور اپنے تجربات شیئر کرنا تھا۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

یہ معاملہ سرکاری ملازمین کے اظہارِ خیال، مذہبی آزادی، سرکاری عہدے کی غیر جانب داری اور عوامی اداروں میں مختلف مذہبی و ثقافتی شناختوں کے احترام سے متعلق سوالات اٹھاتا ہے۔ تاہم تبادلے اور ویڈیو کے درمیان براہِ راست تعلق کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی، اس لیے مختلف دعووں کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کرنا ضروری ہے۔

### HRNW Support Appeal

Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے عوامی آگاہی اور آزاد رپورٹنگ کا مقصد رکھتا ہے۔

**HRNW کے مشن کی حمایت کریں:**
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ رپورٹ دستیاب بھارتی میڈیا رپورٹس اور متعلقہ فریقوں کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بشریٰ بانو کے تبادلے کو ویڈیو میں استعمال کیے گئے اسلامی الفاظ کی وجہ قرار دینے کا دعویٰ سرکاری طور پر ثابت نہیں ہوا؛ مغربی بنگال حکومت نے تبادلے کو عوامی مفاد/انتظامی اقدام قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں