16

ایران امریکی نقصانات کی مزید تفصیلات سامنے لائے گا، عباس عراقچی

**تہران — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران کے وزیر خارجہ **عباس عراقچی** نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ ایران بے دفاع ہے۔ انہوں نے امریکی محکمہ دفاع سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ کو امریکی نقصانات کی تفصیلات کا محض ایک حصہ قرار دیا۔

عباس عراقچی کے مطابق جنگ کے دوران متعدد امریکی فوجی مقامات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے، جبکہ امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار اور نقصانات سے متعلق ایرانی دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں بھی ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی تنصیبات، طیاروں اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ **28 فروری سے 30 جون** کے دوران جنگ پر امریکی اخراجات تقریباً **33.4 ارب ڈالر** رہے، جبکہ امریکی فوج نے تقریباً **22.3 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال کیے**۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی نقصانات سے متعلق مزید معلومات بعد میں سامنے لائی جائیں گی۔ انہوں نے امریکا پر ایران کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔

دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کے ان دعوؤں پر مکمل مؤقف اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

جنگی حالات میں فوجی نقصانات اور مالی اخراجات کے ساتھ شہری آبادی کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کی آزادانہ اور شفاف دستاویز بندی بھی اہم ہے۔ فریقین کی جانب سے جاری کردہ دعووں کی آزادانہ تصدیق، شہریوں کا تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور سفارتی ذرائع سے کشیدگی میں کمی عوامی مفاد کے بنیادی تقاضے ہیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ رپورٹ اور ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ امریکی نقصانات، فوجی تنصیبات اور طیاروں سے متعلق ایرانی دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں کی گئی۔ جنگی حالات میں فریقین کے اعداد و شمار اور دعوے مختلف ہوسکتے ہیں، اس لیے حتمی صورتحال کے تعین کے لیے آزاد اور قابلِ اعتماد ذرائع ضروری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں