27

آبنائے ہرمز میں فوج بھیجنے کی مخالفت، جنوبی کوریا میں امریکا کے خلاف احتجاج

**سیئول — (ایچ آراین ڈبلیو)**جنوبی کوریا میں درجنوں شہریوں نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ میں شامل نہ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے **سیئول میں امریکی سفارتخانے کے قریب** احتجاج کیا اور پلے کارڈز اٹھا کر جنوبی کوریا کو جنگ میں شامل نہ ہونے کا پیغام دیا۔ مظاہرین نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ملک کے نوجوانوں کو کسی بیرونی جنگ میں نہ بھیجا جائے۔

امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** کی جانب سے جنوبی کوریا پر آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی کے لیے کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھنے کی اطلاعات ہیں، تاہم سیئول نے تاحال فوجی تعیناتی کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

جنوبی کوریا کی حکومت کے مطابق وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی سپلائی چین کے تحفظ میں ممکنہ کردار کے مختلف طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جنوبی کوریا نے ایک تحقیقاتی ٹیم متحدہ عرب امارات بھی بھیجی ہے۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کی فوجی موجودگی یا امریکی کارروائیوں میں شرکت کو واشنگٹن کی حمایت تصور کیا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

جنوبی کوریا میں ممکنہ فوجی مداخلت کی مخالفت کے باعث حکومت کے لیے فیصلہ مزید حساس ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسی بھی فوجی تعیناتی کے لیے پارلیمانی منظوری بھی درکار ہوگی۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

کسی بھی ملک کی جانب سے بیرونِ ملک فوجی تعیناتی کا فیصلہ شہریوں، فوجی اہلکاروں اور علاقائی امن پر براہِ راست اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ایسے فیصلوں میں پارلیمانی نگرانی، عوامی مشاورت، بین الاقوامی قانون اور شہریوں کے تحفظ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور آزاد صحافتی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ جنوبی کوریا کی ممکنہ فوجی تعیناتی، ایران کے ردِعمل اور خطے کی صورتحال سے متعلق معلومات میں وقت کے ساتھ تبدیلی ممکن ہے۔ خبر میں مختلف فریقوں کے مؤقف کو ان سے منسوب کرکے پیش کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں