تل ابیب (ایچ آراین ڈبلیو) اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے اور ان سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی سنسنی خیز رپورٹ کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اس سیکیورٹی ناکامی اور ہونے والے نقصان کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ نیتن یاہو کو قبل از وقت کئی خبرداریاں مل چکی تھیں مگر انہوں نے ان تمام انتباہات کو نظر انداز کیا، لہٰذا انہیں مزید ایک منٹ بھی اپنے عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈروں نے واضح کیا ہے کہ قیادت کی اس سنگین ناکامی کے بعد نیتن یاہو کی حکومت میں بقا ملک اور سیکیورٹی دونوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
سیاسی اور انسانی حقوق کا زاویہ
حکومتی سیکیورٹی ناکامیوں اور انٹیلی جنس معلومات کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ ہمیشہ معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کسی بھی ریاستی سربراہ کی جانب سے احتساب اور شفاف تحقیقات سے گریز عوامی تحفظ کے حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ عالمی جمہوریتوں میں سیکیورٹی ناکامیوں پر اعلیٰ حکام کا احتساب اور شفافیت قائم رکھنا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔
HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے لیے ایچ آراین ڈبلیو کی معاونت کریں:
HRNW Support Appeal
Disclaimer: یہ خبر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، اسرائیلی اپوزیشن کے بیانات اور جاری کردہ رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ معاملے کی حتمی نوعیت اور آگے کی صورتحال اسرائیلی پارلیمنٹ اور حکومتی پیش رفت سے واضح ہوگی۔


