یمن (ایچ آراین ڈبلیو) یمنی حوثی جماعت (انصار اللہ) کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر کیے گئے شدید حملوں کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
سعودی اتحادی فورسز کے مطابق حوثیوں نے سعودی شہروں ابہا، خمیس، مشیط، نجران اور جازان کو نشانہ بنایا، جہاں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ اتحادی فورسز کا کہنا ہے کہ انصار اللہ کے ان حملوں کا سخت اور موثر جواب دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یمن کے اندر بھی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدید تیزی آ گئی ہے، خاص طور پر البیضا اور الجوف کے صوبوں میں جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں۔
دوسری جانب یمنی نائب وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی فورسز نے صنعا کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
انسانی حقوق کا زاویہ
شہری آبادیوں، معاشی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنگی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی اس عسکری کشیدگی کے باعث معصوم بچوں اور خواتین سمیت عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، جس کے لیے عالمی برادری کو فوری طور پر انسانی تحویل کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے لیے ایچ آراین ڈبلیو کی معاونت کریں:
HRNW Support Appeal
Disclaimer: یہ خبر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عسکری کارروائیوں اور خطے کی حتمی صورتحال سے متعلق مزید تفصیلات آنے والے سرکاری بیانات سے واضح ہوں گی۔


