**تہران — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران نے **آبنائے ہرمز کے باہر نو گو زون** قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق نقشوں پر عمان کے ساتھ اتفاق ہوگیا ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری **محسن رضائی** کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے عمان کے ساتھ معاملات طے پاگئے ہیں۔
محسن رضائی نے کہا ہے کہ پابندی والے زون کا اعلان آئندہ چند روز میں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مجوزہ زون امریکی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیج تک پھیلے گا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں بحری نقل و حرکت کو منظم کرنا ہے۔ تاہم مجوزہ نو گو زون کی حتمی حدود، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور عالمی بحری آمد و رفت پر ممکنہ اثرات سے متعلق مزید تفصیلات سرکاری اعلان کے بعد واضح ہوں گی۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کے اطراف کسی بھی نئی پابندی یا نو گو زون کے قیام سے علاقائی امن، عالمی تجارت اور شہریوں کی ضروریات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
بحری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور عملے کی حفاظت، بین الاقوامی بحری قوانین کی پاسداری اور کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں کو ترجیح دینا عالمی مفاد میں ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور ایرانی حکام سے منسوب بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مجوزہ نو گو زون کی حتمی حدود، قانونی حیثیت اور عمان یا دیگر متعلقہ ممالک کے باضابطہ مؤقف سے متعلق تفصیلات سرکاری اعلانات کے بعد مزید واضح ہوسکتی ہیں۔


