19

انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹنے سے فضائی سفر شدید متاثر، 2300 پروازیں منسوخ یا متاثر

**جکارتہ — (ایچ آراین ڈبلیو)**انڈونیشیا میں **ماؤنٹ اناک کراکاٹوا** کے شدید آتش فشانی اخراج کے باعث فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ آتش فشانی راکھ فضا میں پھیلنے کے بعد متعدد ہوائی اڈوں کی سرگرمیاں متاثر اور ہزاروں مسافر مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔

تازہ رپورٹس کے مطابق آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کے باعث تقریباً **2,300 پروازیں منسوخی، تاخیر یا رخ تبدیل ہونے** سے متاثر ہوئی ہیں، جبکہ تقریباً **2 لاکھ 70 ہزار مسافروں** کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ماؤنٹ اناک کراکاٹوا نے رات کے وقت سرگرمی دکھائی تو آتش فشانی لاوا فوارے کی شکل میں بلند ہوا، جس سے رات کے آسمان پر سرخ روشنی کا منظر نمایاں ہوگیا۔ حکام کے مطابق دھماکوں کی آوازیں سینکڑوں کلومیٹر دور تک سنائی دیں۔

آتش فشانی راکھ کے پھیلاؤ کے باعث جکارتہ سمیت مختلف علاقوں کی فضائی حدود متاثر ہوئی ہیں۔ حکام نے پروازوں کی حفاظت کے پیش نظر متعدد ہوائی اڈوں کو عارضی طور پر بند کیا، جن میں **سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ** بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق آتش فشاں کی سرگرمی میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم وقفے وقفے سے راکھ کے اخراج اور دیگر سرگرمیاں جاری رہنے کے باعث مزید احتیاط کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ماہرین نے بھی مزید آتش فشانی سرگرمی کے امکان کو برقرار رکھا ہے۔

انڈونیشیا بحرالکاہل کے **رِنگ آف فائر** میں واقع ہونے کے باعث دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آتش فشانی سرگرمیاں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

قدرتی آفات کے دوران شہریوں کی جان و مال اور صحت کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ آتش فشانی راکھ انسانی صحت اور فضائی سفر دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں اور مسافروں کو حکام کی حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا اور سفر سے قبل پرواز کی تازہ صورتحال معلوم کرنا ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر تازہ دستیاب بین الاقوامی اور سرکاری ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آتش فشاں کی سرگرمی، فضائی حدود اور پروازوں کی صورتحال مسلسل تبدیل ہوسکتی ہے، اس لیے اعداد و شمار اور آپریشنل صورتحال میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں