27

امریکا کی سعودی عرب کو 5 ارب ڈالر کے بموں کی ممکنہ فروخت کی منظوری

**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو)**امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً **5 ارب ڈالر مالیت کے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER)** کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدے کا مقصد سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی دفاعی تیاری، آپریشنل ضروریات اور امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون میں بھی بہتری لانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب کو مزید **750 ملین ڈالر مالیت کے AGT-150 انجنوں** کی ممکنہ فروخت کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ دفاعی سودے سعودی عرب کی فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور دفاعی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

دوسری جانب امریکا نے **عمان اور عراق** کے لیے بھی ممکنہ دفاعی معاہدوں کی منظوری دی ہے۔

عمان کو F-16 طیاروں کی دیکھ بھال اور معاونت کے لیے تقریباً **188 ملین ڈالر** کے معاہدے کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ عراق کو تقریباً **150 ملین ڈالر مالیت کے Bell 412EPX ہیلی کاپٹروں** کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔

یہ دفاعی سودے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال اور علاقائی کشیدگی کے باعث امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بڑے پیمانے پر دفاعی سازوسامان کی فروخت کے فیصلوں کے انسانی اور علاقائی اثرات بھی اہم ہوتے ہیں۔ ہتھیاروں کے استعمال کے دوران شہری آبادی کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور مسلح تنازعات میں عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کے اصولوں کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

دفاعی معاہدوں میں شفافیت اور ذمہ دارانہ نگرانی بھی ضروری ہے تاکہ فوجی سازوسامان کا استعمال بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہو۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، امن، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کی جا سکتی ہے:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ میڈیا رپورٹ اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مذکورہ دفاعی سودے **ممکنہ فروخت کی منظوری** سے متعلق ہیں؛ حتمی معاہدے، مقدار یا دیگر شرائط میں تبدیلی ممکن ہے۔ خبر میں شامل تمام دعوے متعلقہ حکام اور فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق بیان کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں