**کھٹمنڈو — (ایچ آراین ڈبلیو)**نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ملبے تلے دبنے والی **64 سالہ چندریکا شریستھا** کو تقریباً 10 دن بعد ضلع نواکوٹ کے بیتراوتی علاقے میں ایک چار منزلہ مکان کے ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ملبے کے اندر سے خاتون کی آواز سنائی دی، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملبہ ہٹایا اور انہیں بحفاظت باہر نکال لیا۔
ریسکیو کے بعد چندریکا شریستھا کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
اسی روز ایک **چینی شہری** کو بھی ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے تقریباً 10 دن بعد زندہ نکال لیا گیا۔ دونوں واقعات نے شدید قدرتی آفت کے دوران جاری امدادی کارروائیوں میں امید کی نئی کرن پیدا کردی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ تباہی گلیشیئر کے انہدام کے بعد آنے والے شدید سیلاب سے ہوئی، جس کے نتیجے میں **1,300 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتا** ہوئے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ امدادی کارروائیوں اور ملبہ ہٹانے کا عمل آگے بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش کے لیے جدید آلات اور مقامی وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
قدرتی آفات کے دوران شہریوں کی زندگی کا تحفظ، بروقت امداد، محفوظ انخلا اور طبی سہولیات کی فراہمی ریاستی اداروں اور امدادی تنظیموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ملبے تلے زندہ افراد کی تلاش کے لیے مسلسل اور منظم ریسکیو کارروائیاں انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کو خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی فوری فراہمی کے ساتھ ساتھ لاپتا افراد کی تلاش اور شناخت کے عمل میں شفافیت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور قدرتی آفات سے متعلق ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کی جا سکتی ہے:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ میڈیا رپورٹ اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے اعداد و شمار امدادی کارروائیوں کے دوران تبدیل ہوسکتے ہیں۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر صورتحال اور اعداد و شمار میں تبدیلی ممکن ہے۔


