**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کے جنگی اسلحہ ذخائر سے متعلق حساس معلومات میڈیا کو لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے امریکی حکام نے تقریباً **50 فوجی افسران اور سویلین اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ** کیے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ اہلکاروں سے اگست کے دوران پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے پولی گراف ٹیسٹ بھی لیے گئے۔ تحقیقات کا مرکزی دائرہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز سمیت اہم امریکی جنگی ذخائر میں کمی سے متعلق حساس معلومات کے اخراج پر مرکوز ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک ٹیسٹ کیے گئے کسی بھی اہلکار کے بارے میں ایسا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے مبینہ لیک کے ذمہ دار شخص کی واضح شناخت ہوسکے۔
امریکی محکمہ دفاع نے مخصوص اہلکاروں یا جاری تحقیقات کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم حساس اور خفیہ معلومات کا افشا قومی سلامتی کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** نے حساس معلومات کے لیک ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے، جبکہ پینٹاگون کی جانب سے مبینہ طور پر خفیہ معلومات میڈیا تک پہنچانے والے ذمہ داروں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایسی تحقیقات میں **شفافیت، قانونی طریقہ کار اور بنیادی حقوق** کا احترام بھی ضروری ہے۔ کسی بھی اہلکار کو محض شبہ یا تفتیش کی بنیاد پر قصوروار قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور ذمہ داری کا تعین قابلِ اعتماد شواہد اور قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، شفافیت اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد صحافت کو فروغ دینے کے لیے HRNW کی معاونت کی جا سکتی ہے:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پولی گراف ٹیسٹ یا تحقیقات میں شامل کسی بھی شخص کو حتمی شواہد اور قانونی فیصلے کے بغیر مبینہ لیک کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تحقیقات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر صورتحال میں تبدیلی ممکن ہے۔


