**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سندھ کے عدالتی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیر قانون، چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری خزانہ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سندھ میں عدالتی ترقیاتی منصوبوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور زیرِ التوا معاملات کو جلد حل کرنے پر زور دیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدالتوں کے مؤثر طریقے سے کام کرنے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے **عدالتی انفراسٹرکچر اور مالی وسائل کی بروقت فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔**
انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کے اہداف کو عملی شکل دینے کے لیے عدلیہ اور سندھ حکومت کے درمیان مسلسل ادارہ جاتی رابطہ ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں **خواتین کے لیے سہولت مراکز کی تعمیر، عدالتوں کو مناسب عمارتوں میں منتقل کرنے، انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی اور کورنگی ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس** سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
شرکاء نے کورنگی ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس سے متعلق زیرِ التوا معاملات کو حل کرنے اور منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتی اداروں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور جدید سہولیات کے ذریعے انصاف کے نظام کو شہریوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی اور مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے اور باہمی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقے سے عدالتی اصلاحات کے مقاصد کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
سندھ حکومت کے نمائندوں نے عدالتی شعبے کے لیے صوبائی حکومت کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے والے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق متعلقہ محکمے عدلیہ کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے زیرِ التوا معاملات حل کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے اقدامات کریں گے۔
چیف جسٹس پاکستان نے سندھ ہائیکورٹ، بار اور سندھ حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت اور باہمی تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی تعاون کے نتیجے میں مسائل کا قابلِ عمل اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ میں جاری اقدامات وسیع تر عدالتی اصلاحات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد **بہتر انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والی سہولیات اور عوامی معاونت کے نظام کو مضبوط بنانا** ہے تاکہ انصاف کے اداروں کو زیادہ مؤثر، عوام دوست، قابلِ رسائی اور شہریوں کی ضروریات کے مطابق بنایا جاسکے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
مؤثر اور قابلِ رسائی عدالتی نظام شہریوں کے بنیادی حقوق اور انصاف تک رسائی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید عدالتی انفراسٹرکچر، مناسب سہولیات اور بروقت وسائل کی فراہمی سے مقدمات کی مؤثر سماعت اور عام شہریوں کے لیے انصاف کے حصول کے عمل کو مزید آسان بنایا جاسکتا ہے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، انصاف، قانون اور عوامی مفاد سے متعلق آزادانہ صحافت کے فروغ کے لیے **ایچ آراین ڈبلیو** کی معاونت کریں:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:** یہ خبر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے اجلاس سے متعلق جاری کردہ اعلامیے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔


