**لندن — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام آئینی تقاضے پورے کرنے اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
لندن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جب پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں متفقہ طور پر فیصلہ کریں گی، تب ہی نئے انتظامی یونٹس یا صوبے وجود میں آ سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کا قیام ایک آئینی، قانونی اور پارلیمانی عمل ہے جس میں مقررہ آئینی طریقہ کار اور مطلوبہ اکثریت کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملک میں انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہیے، جبکہ متعلقہ اداروں اور منتخب نمائندوں کی رضامندی اس عمل میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
آزاد کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وہاں سب سے بڑا چیلنج بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد تھا، جو پرامن انداز میں مکمل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے انتخاب کا حتمی اختیار مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے پاس تھا۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان متعدد مرتبہ اپوزیشن کو سیاسی مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں سیاسی استحکام اور درپیش مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ سب سے بہتر ہے اور حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام عوام کی انتظامی سہولت، بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی مسائل کے مؤثر حل سے براہِ راست متعلق معاملہ ہے۔ ایسے کسی بھی فیصلے میں آئینی طریقہ کار کے ساتھ عوامی رائے، علاقائی ضروریات، وسائل کی تقسیم اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سیاسی اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور پارلیمانی عمل جمہوری نظام کا اہم حصہ ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامقصد اور شفاف مذاکرات سیاسی استحکام، عوامی اعتماد اور قومی اتفاقِ رائے کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
## HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، جمہوری اقدار، عوامی مسائل اور قومی معاملات سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے آزاد صحافتی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ عوامی مفاد کی صحافت کو مضبوط بنانے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
**HRNW Support Appeal:**
[HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے میڈیا سے گفتگو کے دوران بیان کردہ مؤقف اور سیاسی تبصرے شامل ہیں۔ آزاد کشمیر اور دیگر سیاسی معاملات سے متعلق بیان کردہ نکات متعلقہ سیاسی و حکومتی مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ حتمی آئینی یا قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ آئینی و قانونی طریقہ کار اور مجاز اداروں کے فیصلوں سے ہوگا۔


