5

3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہوگی، آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی تحریک ملک بھر میں جاری ہے اور اسے گلی، محلوں اور مارکیٹوں کی سطح تک پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ **3 ستمبر کو پورے ملک میں ہڑتال ہوگی** جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے عوام کو مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور بجلی کے اضافی چارجز کے حوالے سے آگاہی فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں لاکھوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں استعمال ہوتی ہیں اور حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز اور لیوی عائد کیے جا رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک طالب علم جب اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواتا ہے تو اس سے بھی بھاری شرح سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جو ان کے بقول عوام کے لیے بڑا بوجھ ہے۔

انہوں نے بجلی کے شعبے میں کیپسٹی پیمنٹس اور فکسڈ چارجز پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ **1700 ارب روپے سے زائد رقم چند آئی پی پیز کو ایسی بجلی کے عوض ادا کی گئی جو استعمال نہیں کی گئی۔**

امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ حکمران طبقے کی مراعات اور عیاشیوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی تحریک میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی ساتھ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستانی عوام کی زندگی آسان بنائی جائے اور پٹرولیم لیوی سمیت عوام پر عائد اضافی مالی بوجھ ختم کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جاری دھرنوں اور احتجاجی تحریک کا اثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت بات چیت کے لیے آگے آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کی کمی اور بجلی کی قیمت میں حالیہ کمی بھی جماعت اسلامی کی تحریک کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے پیش رفت نہ کی تو دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

کراچی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی گزشتہ 15 سال سے کراچی کے مسائل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے انتظامی یونٹس کے معاملے پر آئین کے مطابق فیصلہ کرنے اور عوام کی رائے کو اہمیت دینے پر زور دیا۔

انہوں نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سیاسی اختلافات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں لسانی یا شہری و دیہی تقسیم پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

عوام کو مہنگائی، بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ سے متعلق پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور پرامن طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ احتجاج اور ہڑتال جیسے جمہوری طریقوں کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق، کاروباری سرگرمیوں، مریضوں، طلبہ اور دیگر ضروری خدمات کے تسلسل کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔

حکومت اور سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ عوامی مطالبات کو شفاف انداز میں سنا جائے، معاشی فیصلوں کے اثرات عوام کے سامنے واضح کیے جائیں اور بجلی و توانائی کے شعبے میں ادائیگیوں اور معاہدوں سے متعلق شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

## HRNW Support Appeal

Human Rights News Worldwide (HRNW) عوامی مسائل، انسانی حقوق اور معاشرتی انصاف سے متعلق آزادانہ صحافتی آگاہی کے لیے آپ کے تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔

**HRNW Support Appeal:**
[HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران بیان کیے گئے مؤقف، دعوے اور سیاسی الزامات شامل ہیں۔ ان میں موجود الزامات یا اعداد و شمار کو متعلقہ حکام یا عدالت کی جانب سے حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق تصور نہ کیا جائے۔ تمام فریقین کا مؤقف اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کی صورت میں حتمی صورتحال مزید واضح ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں