**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک H میں پلاٹ نمبر **B-122** پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق پہلے سے موجود عمارت کو بال روم میں تبدیل کیے جانے کے بعد اسی عمارت کے اوپر مزید دو بال رومز تعمیر کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے ابتدائی منظوری دکانوں کے لیے بتائی جاتی ہے، تاہم موجودہ تعمیراتی سرگرمیاں مبینہ طور پر منظور شدہ نقشے اور عمارت کے مجاز استعمال سے مختلف دکھائی دیتی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ پلاٹ پر بال رومز کے قیام اور اضافی تعمیرات کے لیے تمام قانونی اجازت نامے موجود ہیں تو متعلقہ اداروں کو منظور شدہ نقشہ، تعمیراتی اجازت نامے اور عمارت کے مجاز استعمال سے متعلق ریکارڈ عوام کے سامنے لانا چاہیے۔
معاملے کا ایک اہم پہلو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے بعض متعلقہ افسران سے متعلق مبینہ الزامات بھی ہیں۔ ذرائع اور شہری حلقوں کی جانب سے بعض افسران، جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹر اور بلڈنگ انسپکٹر سے وابستہ اہلکار شامل ہیں، پر مبینہ رشوت خوری اور تعمیراتی سرگرمیوں سے چشم پوشی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور متعلقہ افسران یا اداروں کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان الزامات کو حتمی یا ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر رہائشی علاقے میں مکمل قانونی منظوری کے بغیر بڑے پیمانے پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تو اس سے ٹریفک، پارکنگ، شور اور شہری انفراسٹرکچر سے متعلق مسائل میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
شہریوں نے **وزیرِ بلدیات سندھ، ڈی جی SBCA، کے ڈی اے، ڈپٹی کمشنر سینٹرل، ایس ایس پی سینٹرل اور چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ** سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر B-122 کی مکمل فائل، منظور شدہ نقشہ، تعمیراتی اجازت ناموں اور عمارت کے مجاز استعمال کی فوری اور غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔
شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مذکورہ تعمیرات تمام قانونی تقاضوں کے مطابق ہیں تو متعلقہ ادارے اس حوالے سے ریکارڈ اور دستاویزات واضح کیوں نہیں کرتے؟ جبکہ اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جانی چاہیے۔
علاقہ مکینوں نے وزیرِ بلدیات سندھ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر پلاٹ B-122 کے حوالے سے غیر جانبدارانہ انکوائری کرائیں، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ مبینہ اضافی تعمیرات اور دو نئے بال رومز کی تیاری کس اجازت کے تحت کی جارہی ہے اور آیا کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے اختیارات سے تجاوز یا قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
شہری علاقوں میں تعمیرات اور کمرشل سرگرمیوں کی اجازت براہِ راست شہریوں کے محفوظ اور پُرامن ماحول، ٹریفک، پارکنگ، شور اور بنیادی شہری سہولیات سے جڑی ہوتی ہے۔
اگر کسی تعمیراتی منصوبے سے متعلق قوانین یا منظور شدہ نقشے کی خلاف ورزی کی شکایت سامنے آئے تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں۔ شہریوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ ان کے رہائشی ماحول اور بنیادی شہری سہولیات کو قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہو۔
اسی طرح سرکاری اہلکاروں پر عائد کسی بھی مبینہ بدعنوانی کے الزام کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں، جبکہ کسی افسر یا فرد کو صرف الزام کی بنیاد پر قصوروار قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد، شفاف حکمرانی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ رپورٹ فراہم کردہ معلومات، ذرائع اور علاقہ مکینوں کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تعمیرات کی غیر قانونی حیثیت، مبینہ رشوت خوری یا سرکاری اہلکاروں کی جانب سے چشم پوشی کے الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔ متعلقہ سرکاری اداروں اور افسران کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ کسی بھی فرد یا افسر کو حتمی عدالتی یا تفتیشی فیصلے کے بغیر قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا۔


