**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایف آئی اے کمرشل بینکس سرکل کراچی نے غیر قانونی کرنسی ڈیلرز اور ہنڈی حوالہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کرکے 4 مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارروائی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون منتظر مہدی کی ہدایات پر کی گئی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کمرشل بینکس سرکل کراچی کی نگرانی میں ایف آئی اے سی بی سی کراچی کی ٹیم نے کارروائی انجام دی۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ٹیم نے **ڈی ایچ اے فیز ٹو ایکسٹینشن، سن سیٹ لین، کراچی ساؤتھ** میں واقع ایک نجی بینک کے قریب ٹارگٹڈ کارروائی کی۔
کارروائی کے دوران غیر قانونی کرنسی ڈیلنگ اور ہنڈی حوالہ سے مبینہ طور پر منسلک افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ ان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور برآمد ہونے والی کرنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام اس بات کا بھی تعین کر رہے ہیں کہ گرفتار افراد کا ہنڈی حوالہ یا غیر قانونی کرنسی کے کاروبار کے نیٹ ورک سے کس نوعیت کا تعلق تھا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کرنسی ڈیلرز اور ہنڈی حوالہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ملکی معیشت، مالیاتی نظام اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ تاہم گرفتار افراد کے خلاف تحقیقات میں شفاف قانونی طریقہ کار، منصفانہ سماعت اور ملزمان کے بنیادی قانونی حقوق کا بھی مکمل احترام ضروری ہے۔
کسی بھی شخص کو صرف گرفتاری یا الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا؛ جرم ثابت ہونے کا فیصلہ شواہد اور متعلقہ عدالت کے قانونی عمل کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر ایف آئی اے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار افراد کو خبر میں مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک قرار دیا گیا ہے، تاہم ان کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ حتمی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔


