**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**لاہور میں ایک شادی شدہ خاتون کو مبینہ طور پر ملازمت دلوانے کے بہانے ایک گھر میں بلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت خاتون کی کمسن بیٹی بھی کمرے میں موجود تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون ملازمت کے سلسلے میں اپنے بہنوئی عمران کے ساتھ 5 نمبر اسٹاپ پہنچی تھیں، جہاں سے انہیں ایک گھر لے جایا گیا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سسرالی رشتے دار کی مبینہ ملی بھگت سے گھر میں پہلے سے موجود دو افراد نے خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایف آئی آر کے مطابق واقعے کے دوران خاتون کی تقریباً ڈیڑھ سالہ بیٹی بھی کمرے میں موجود تھی، جس سے واقعے کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف زیادتی سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق نامزد ملزمان واقعے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دستیاب شواہد اور بیانات کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
جنسی تشدد ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ایسے مقدمات میں متاثرہ فرد کو فوری تحفظ، طبی معاونت، قانونی مدد اور باعزت طریقے سے انصاف تک رسائی فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
اس نوعیت کے واقعات میں متاثرہ خاتون اور کمسن بچے کی شناخت اور نجی معلومات کو محفوظ رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ انہیں مزید ذہنی، سماجی یا نفسیاتی نقصان سے بچایا جا سکے۔
تحقیقات شفاف اور غیر جانب دار انداز میں ہونی چاہئیں، جبکہ ملزمان کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔ اسی طرح کسی بھی شخص کو عدالت کے حتمی فیصلے سے قبل مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
## HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، خواتین اور بچوں کے تحفظ، انصاف اور عوامی مفاد سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آزاد صحافتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ عوامی مفاد کی صحافت کو مضبوط بنانے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
**HRNW Support Appeal:**
[HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں درج زیادتی اور دیگر جرائم سے متعلق تفصیلات ایف آئی آر اور پولیس کے مؤقف کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔ یہ الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ ملزمان کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین شفاف تفتیش، دستیاب شواہد اور مجاز عدالت کے فیصلے کے بعد ہوگا۔ متاثرہ خاتون اور کمسن بچی کی شناخت جان بوجھ کر ظاہر نہیں کی گئی۔


