**تل ابیب — (ایچ آراین ڈبلیو)**اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ’’بھرپور طاقت‘‘ کے ساتھ جواب دے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایرانی اور امریکی فورسز کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایرانی فورسز کی جانب سے مختلف مقامات پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیلی فوج یہودیوں کے اہم مذہبی تہواروں کے سیزن کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ مذہبی تہوار ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران اس وقت خطے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم اسرائیل کو بھی ممکنہ ایرانی حملے کا خدشہ ہے اور اسرائیلی فوج دفاعی طور پر مکمل تیار ہے۔
اسرائیل کاٹز نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل کسی دوسرے ملک کی مدد یا اجازت کا انتظار کیے بغیر خود کارروائی کرے گا۔ ان کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے اس بیان کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ خطے میں پہلے سے موجود فوجی تناؤ کے تناظر میں کسی بھی نئے حملے یا جوابی کارروائی سے تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے سب سے زیادہ اثرات عام شہریوں پر پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ممکنہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی جان و مال، بنیادی سہولیات اور نقل مکانی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
تمام فریقین پر زور دیا جانا چاہیے کہ شہری آبادی کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور تنازع کو مزید وسعت دینے کے بجائے سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دیں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، امن، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ممکنہ حملے اور فوجی کارروائی سے متعلق بیانات متعلقہ فریق کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے، اس لیے مزید پیش رفت اور سرکاری بیانات کو حتمی صورتحال کے لیے مدنظر رکھا جانا چاہیے۔


