20

ایران کی عرب ممالک کو سخت دھمکی، امریکی فوج نکالنے کا مطالبہ

**تہران — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران کے پاسداران انقلاب کے سیاسی شعبے کے نائب جنرل یداللہ جوانی نے عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی دستوں اور تنصیبات کو ہٹا دیں، بصورتِ دیگر انہیں ایران کی جانب سے سخت اور ’’کچل دینے والے‘‘ فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق جنرل یداللہ جوانی نے اپنے بیان میں عرب ممالک کو ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں میں تعاون سے خبردار کیا۔ انہوں نے بالخصوص **کویت، بحرین اور اردن** کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہی تو یہ ممالک ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے اہداف بن سکتے ہیں۔

ایرانی عہدیدار نے عرب ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی اڈے اور اہلکار ہٹا دیں۔ ان کے مطابق ایران خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

جنرل یداللہ جوانی نے خبردار کیا کہ امریکی فوجی موجودگی ختم نہ کیے جانے کی صورت میں ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے، جسے انہوں نے ’’کچل دینے والا‘‘ ردعمل قرار دیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور دفاعی تنصیبات موجود ہیں۔

کویت، بحرین اور اردن امریکا کے اہم علاقائی شراکت داروں میں شمار ہوتے ہیں۔ بحرین میں امریکی بحریہ کی اہم تنصیب موجود ہے، جبکہ اردن اور کویت بھی امریکا کے ساتھ قریبی دفاعی اور سکیورٹی تعاون رکھتے ہیں۔

ایرانی عہدیدار کی جانب سے ان ممالک کا نام لیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ کسی بھی امریکی فوجی تنصیب پر ممکنہ حملے کے اثرات صرف متعلقہ تنصیبات تک محدود رہنے کے بجائے میزبان ممالک کی سلامتی اور پورے خطے کی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی تازہ دھمکی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کی سفارتی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ امریکی فوجی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی صورت میں تنازع کے دیگر ممالک تک پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے براہِ راست اثرات عام شہریوں کی زندگی، امن و سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق پر پڑ سکتے ہیں۔ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی میں شہری آبادی کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

خطے کے ممالک کی خودمختاری، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور پرامن حل کی کوششیں عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، امن، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور متعلقہ ایرانی عہدیدار کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق دعوے اور بیانات متعلقہ فریق کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ صورتحال میں تیزی سے تبدیلی ممکن ہے، اس لیے مزید پیش رفت اور سرکاری بیانات کو حتمی صورتِ حال کے لیے مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں