**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ مضر اثرات سے محفوظ بنانے اور ان کے آن لائن استعمال کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق آئینی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے **تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے**۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو **15 روز کے اندر رپورٹ اور جامع پیراوائز کمنٹس** جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے موجودہ قانونی و ریگولیٹری نظام اور بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے مجوزہ اقدامات سے متعلق بھی جواب طلب کیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ **16 سال سے کم عمر بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسگی، گرومنگ، جنسی استحصال اور نقصان دہ آن لائن مواد** سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع قانون سازی اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جائے۔
درخواست گزار نے بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے **عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام** قائم کرنے کی بھی استدعا کی ہے تاکہ کم عمر بچوں کو ان کے لیے نقصان دہ ڈیجیٹل مواد اور سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔
درخواست میں آسٹریلیا اور فرانس سمیت مختلف ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قانون سازی کے حوالہ جات بھی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے۔ آسٹریلیا میں **16 سال سے کم عمر بچوں** کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قانون سازی جبکہ فرانس میں **15 سال سے کم عمر بچوں** کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے والدین کی رضامندی سے متعلق قانون کا حوالہ دیا گیا۔
درخواست میں **اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال** اور بچوں کے ڈیجیٹل حقوق سے متعلق **جنرل کمنٹ نمبر 25** کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
یہ آئینی درخواست **وقاص ناصر** نے دائر کی، جبکہ وکلا **محمد جلال حیدر** اور **یحییٰ فرید خواجہ ایڈووکیٹس ہائیکورٹ** میں پیش ہوئے۔
درخواست میں **وزارتِ آئی ٹی، وزارتِ اطلاعات، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA)** سمیت دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک **مؤثر قانونی اور ریگولیٹری نظام** ناگزیر ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
بچوں کا آن لائن تحفظ ان کے **حقِ تحفظ، رازداری، وقار اور محفوظ نشوونما** سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ تاہم، کسی بھی عمر کی پابندی یا ریگولیشن میں بچوں کے اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور رازداری کے حقوق کے ساتھ مناسب توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
### HRNW سپورٹ اپیل
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق، ڈیجیٹل تحفظ اور قانون کی حکمرانی سے متعلق آگاہی کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر فراہم کردہ عدالتی کارروائی اور درخواست میں بیان کردہ مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونا درخواست میں کیے گئے دعووں یا استدعا کی حتمی منظوری نہیں ہوتا۔ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔


