5

میر رضا قتل کیس: اہل خانہ کی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست، سندھ ہائیکورٹ میں اہم سماعت

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا قتل کیس میں اہل خانہ کی جانب سے **مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT)** تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ میر رضا کے اہل خانہ اپنے وکیل **جبران ناصر** کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر تین سوالات اٹھائے تھے اور اہل خانہ نے ان کے جواب کے لیے متفرق درخواست دائر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل خانہ نے **جوڈیشل کمیشن کے بجائے جے آئی ٹی** تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

**ایڈووکیٹ جنرل سندھ** نے عدالت کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جاچکا ہے اور اس نے کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ ان کے مطابق جے آئی ٹی ایک **انتظامی فورم** ہے، جبکہ سندھ حکومت نے اہل خانہ کے مؤقف اور خدشات کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا ہے۔

جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات نہیں بلکہ اپنے **ٹی او آرز کے تحت انکوائری** کرنی ہے۔ ان کے مطابق اہل خانہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے خط میں اپنے تجویز کردہ ٹی او آرز پیش کیے تھے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ **کیا جوڈیشل انکوائری پولیس تحقیقات پر اثر انداز ہوگی؟** عدالت نے ریمارکس دیے کہ انکوائری، تحقیقات کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ عدالت کے مطابق ایف آئی آر نہ ہونے کی صورت میں انکوائری کی جاسکتی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن پولیس کی تحقیقات سے معاونت حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر شواہد سامنے آئے تو مقدمے میں **دہشت گردی کی دفعات سمیت دیگر دفعات** بھی شامل کی جاسکتی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مطابق اہل خانہ کے خط پر معاملہ کابینہ میں زیرِ غور لایا گیا اور کابینہ نے جوڈیشل کمیشن کی منظوری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کا مقصد اہل خانہ کے خدشات دور کرنا ہے۔

عدالت نے اہل خانہ کی جانب سے پولیس پر **شواہد خراب کرنے کے مبینہ الزامات** سے متعلق بھی سوال کیا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ یہ تمام معاملات جوڈیشل کمیشن کے سامنے آئیں گے۔

سماعت کے دوران عدالت نے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پوسٹ مارٹم سے صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ **واقعہ خودکشی نہیں تھا**۔ عدالت نے سوال کیا کہ اگر خودکشی نہیں تو پھر واقعہ کیا ہے؟

**پراسیکیوٹر جنرل سندھ** نے کہا کہ رپورٹ فائل ہونے سے پہلے ہی حکومت اور انتظامیہ کو سبوتاژ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر **سراج لاشاری** نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز **صفر سے** کیا ہے، جبکہ حتمی پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ ابھی باقی ہیں۔

سراج لاشاری نے کہا کہ تفتیشی ٹیم جبران ناصر کو نہیں بلکہ اپنی **ڈیوٹی کو جواب دہ** ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر شواہد ڈیجیٹل نوعیت کے ہیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے ایک خول ملا ہے تاہم پستول برآمد نہیں ہوا۔

عدالت نے ایک مرتبہ پھر پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں خودکشی کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے اور تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ان کی رائے میں پھر یہ واقعہ کیا ہے۔

تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو واضح طور پر بتایا کہ **”ہم کلیئر ہیں کہ قتل ہوا ہے۔”**

### انسانی حقوق اور حقِ انصاف کا پہلو

میر رضا کیس میں متاثرہ خاندان کے خدشات، شواہد کے تحفظ، شفاف تفتیش اور ذمہ داروں کے تعین کا معاملہ **حقِ انصاف اور قانون کی حکمرانی** سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ایک مؤثر تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمام شواہد غیر جانب دارانہ طور پر محفوظ کیے جائیں، ممکنہ کوتاہیوں کی جانچ ہو اور واقعے کے ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے۔

### انسانی حقوق سپورٹ اپیل

**ایچ آراین ڈبلیو (HRNW)** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے حقِ انصاف کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈسکلیمر

یہ خبر سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران وکلا، سرکاری نمائندوں اور تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف اور عدالتی ریمارکس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کیس کی تفتیش اور ذمہ داروں سے متعلق حتمی تعین متعلقہ عدالت اور تفتیشی اداروں کے قانونی عمل کے تابع ہے۔ تمام متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق منصفانہ کارروائی اور دفاع کا حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں