**کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو):** بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں **تیزاب گردی کے خلاف سرکاری قرارداد** پر اس وقت شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب بعض مرد ارکانِ اسمبلی نے قرارداد میں تیزاب گردی کے ساتھ قتل ہونے والی دیگر خواتین اور **اسما جتک** کے واقعے کا ذکر نہ کیے جانے پر اعتراض اٹھایا۔
رکن اسمبلی **فرح عظیم شاہ** نے مرد ارکان کی جانب سے قرارداد کی مخالفت پر ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی مقاصد اور میڈیا میں آنے کی کوشش قرار دیا، جس کے بعد ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
الزامات اور جوابی الزامات کے بعد اسمبلی اجلاس میں **شدید شور شرابا** شروع ہوگیا اور متعدد ارکان بیک وقت اظہارِ خیال کرتے رہے، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ رہا۔
ارکانِ اسمبلی نے خواتین کے خلاف **تشدد، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات** پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر قانون سازی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔
ارکان کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے تمام واقعات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔


