5

پنجاب میں اے آئی بیسڈ گورننس، علی بابا کلاؤڈ سے تعاون پر اتفاق

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دورۂ چین کے دوران معروف ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کلاؤڈ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی، جس میں پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر، مصنوعی ذہانت (AI) اور عوامی خدمات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران علی بابا کلاؤڈ کے وفد نے پنجاب کے آئی ٹی شعبے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں اے آئی بیسڈ گورننس کے اقدامات کو سراہا۔ ایگریکلچر، ہیلتھ کیئر، سماجی و معاشی پروگرامز اور موسمیاتی پیش گوئی سمیت مختلف عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری پر بھی غور کیا گیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں گورننس کے نظام کو مصنوعی ذہانت سے مربوط کیا جا رہا ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مستقبل تک مؤخر کرنے کے بجائے موجودہ دور میں ہی عملی جامہ پہنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب مصنوعی ذہانت کو حکومتی نظام کا حصہ بنانے والا پہلا صوبہ بن چکا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں دنیا کا سب سے بڑا پبلک سیکٹر کینسر ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری سکولوں کے بچوں کو اے آئی کی تعلیم دینے کا خیال بیجنگ کے طلبہ کو دیکھ کر آیا۔ انہوں نے اے آئی اور دیگر آئی ٹی شعبوں میں چین کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب نوجوان اور ہنرمند افرادی قوت کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے اور ڈیجیٹل اکانومی میں قائدانہ حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صوبے میں سرکاری افسران، اہلکاروں اور کابینہ ارکان کو بھی اے آئی کی تربیت دی جا چکی ہے۔

علی بابا کلاؤڈ کے سینئر وائس پریزیڈنٹ لی جیا پنگ نے کمپنی کے امور سے متعلق وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی موجودگی میں ایم او یو پر دستخط کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کو میڈیا کمپینز اور میڈیکل ٹریننگ سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

لی جیا پنگ نے کہا کہ کینسر کی تشخیص اور علاج میں مصنوعی ذہانت معاون ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ پاکستان میں ڈیٹا سینٹر کے قیام کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔ ملاقات میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

صوبائی معاون برائے مصنوعی ذہانت علی مصطفیٰ ڈار نے پنجاب کے اے آئی اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں گریڈ ون سے اے آئی ایجوکیشن لازمی قرار دی جا چکی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی، زراعت، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا سرکاری نظام میں استعمال عوام کو بہتر، تیز اور شفاف خدمات فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی پیش گوئی جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ، رازداری، مساوی رسائی اور شفافیت کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل گورننس کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ سکیں۔

### HRNW Support Appeal

Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، عوامی مفاد، شہری مسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق اہم پیش رفت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی خدمات جاری رکھتا ہے۔ ادارے کی معاونت کے لیے:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور متعلقہ حکام کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل اعداد و شمار، دعووں اور منصوبوں کی آزادانہ طور پر تصدیق کی ذمہ داری HRNW پر عائد نہیں ہوتی۔ متعلقہ منصوبوں اور شراکت داریوں سے متعلق حتمی تفصیلات سرکاری اعلانات اور معاہدوں کے مطابق ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں