**راولپنڈی (ایچ آراین ڈبلیو)**امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کی ترقی اور خوشحالی کی شاہراہیں بند کر رکھی ہیں، تاہم **3 ستمبر کی ایک روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال** قوم کو ایک لڑی میں پرو کر عوام کی آزادی اور خوشحالی کی راہیں کھول دے گی۔ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔
لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران عوامی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے، انہیں عوام کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمران عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے بجائے بجلی، پٹرول اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ’’شہباز سپیڈ‘‘ صرف مہنگائی بڑھانے کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی فرد یا خاندان کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، بجلی اور روٹی سستی کی جائے جبکہ سرکاری افسران اور وزرا کو حاصل مفت پٹرول، گاڑیوں اور دیگر مراعات کا خاتمہ کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے بجلی کے بلوں میں مختلف چارجز وصول کیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں آئی پی پیز سے مذاکرات ہوئے اور بجلی کی قیمتوں میں عوام کو فی یونٹ 10 سے 15 روپے تک ریلیف حاصل ہوا۔
حافظ نعیم الرحمن نے تعلیم کے شعبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معیاری اور مفت تعلیم کو عوام کا بنیادی حق سمجھتے ہوئے اس شعبے پر مؤثر توجہ دی جائے۔
انہوں نے بچوں اور خواتین کے تحفظ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ زیادتی اور تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسائل طاقت کے بجائے مذاکرات سے حل کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق کشمیریوں کو محبت، عزت اور سیاسی طور پر قابلِ قبول حل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل پر بھی حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عوام کو پُرامن احتجاج، اظہارِ رائے اور اپنے بنیادی معاشی و سماجی حقوق کے مطالبے کا حق حاصل ہے۔ مہنگائی، بجلی کے نرخ، تعلیم، صحت، روزگار اور شہری سہولیات سے متعلق عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت اور سیاسی و سماجی قوتوں کے درمیان پُرامن اور آئینی مکالمہ ضروری ہے۔ احتجاج کے دوران شہریوں، کارکنوں، خواتین اور صحافیوں کے بنیادی حقوق اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) عوامی حقوق، انسانی وقار اور آزادیٔ اظہار سے متعلق آگاہی کے لیے اپنی صحافتی خدمات جاری رکھتا ہے۔ ادارے کی معاونت اور مزید معلومات کے لیے:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور بیان کردہ ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل سیاسی بیانات اور الزامات متعلقہ سیاسی رہنماؤں کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ HRNW کسی سیاسی جماعت یا فریق کے مؤقف کی توثیق نہیں کرتا۔


