4

جعلی صحافت کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، متعدد افراد زیرِ حراست، مزید گرفتاریوں کا امکان

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):** مبینہ جعلی صحافیوں اور غیر رجسٹرڈ میڈیا پلیٹ فارمز کے نام پر شہریوں سے دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف **پیمرا اور پنجاب پولیس کی کارروائی** شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حکام کے مطابق مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ مبینہ جعلی پریس کارڈز اور غیر رجسٹرڈ میڈیا پلیٹ فارمز کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے والے افراد کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خود کو صحافی ظاہر کرکے **بلیک میلنگ، فراڈ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں** میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

حکام کے مطابق میڈیا سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والے افراد کی شناخت اور ان کے اداروں کی قانونی حیثیت کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم صرف جرنلزم کی ڈگری نہ ہونا بذاتِ خود کسی شخص کو صحافت سے خارج کرنے کی حتمی قانونی بنیاد نہیں، کیونکہ صحافت کے شعبے میں پیشہ ورانہ تجربہ اور مختلف نوعیت کی میڈیا وابستگیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔

پیمرا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ اداروں اور افراد کے خلاف قانون کے مطابق **جرمانوں اور دیگر قانونی کارروائی** کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

### انسانی حقوق کا پہلو

جعلی صحافت، بلیک میلنگ اور فراڈ کے خلاف قانونی کارروائی عوام اور حقیقی صحافیوں کے تحفظ کے لیے اہم ہے، تاہم کارروائی کے دوران **آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار، قانونی طریقۂ کار اور ملزمان کے منصفانہ ٹرائل کے حق** کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ کسی شخص کو صرف الزام یا پیشہ ورانہ شناخت کے تنازع کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

### انسانی حقوق سپورٹ اپیل

**ایچ آراین ڈبلیو (HRNW)** انسانی حقوق، آزادیٔ صحافت، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈسکلیمر

یہ خبر دستیاب معلومات اور حکام سے منسوب دعووں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ زیرِ حراست یا نامزد افراد کے خلاف عائد الزامات کی حتمی حیثیت عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔ جرم ثابت ہونے تک تمام افراد کو قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں