**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** حکومت نے بانی پی ٹی آئی **عمران خان** سے متعلق غیر ملکی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں موجود کسی بھی قیدی تک رسائی کو سیاسی سرگرمی یا جیل سے بلا روک ٹوک سیاسی رابطوں کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔
حکومتی حکام کے مطابق جیل کے قواعد و ضوابط تمام قیدیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں اور کسی بھی قیدی سے ملاقات یا رابطے کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کو **سیاسی سرگرمیوں، سیاسی رابطہ کاری یا جیل سے براہِ راست سیاسی ہدایات جاری کرنے** کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ جیل انتظامیہ قیدیوں سے ملاقات اور رابطے کے حوالے سے متعلقہ قوانین اور سکیورٹی تقاضوں کے مطابق اقدامات کرتی ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
قیدیوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک، اہلِ خانہ اور وکلا تک قانونی رسائی اور منصفانہ طریقۂ کار بنیادی حقوق کے اہم اصول ہیں۔ ساتھ ہی جیل کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کرنے کے لیے مقررہ قواعد کی پابندی بھی ضروری ہے۔ کسی بھی پابندی یا فیصلے کا اطلاق شفاف اور غیرامتیازی قانونی طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے۔
### انسانی حقوق سپورٹ اپیل
**ایچ آراین ڈبلیو (HRNW)** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شہری آزادیوں اور عوامی اہمیت کے معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر حکومتی حکام کے بیان اور مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عمران خان سے متعلق غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے بارے میں حکومت کا مؤقف متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جبکہ کسی بھی الزام یا دعوے کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور قانونی کارروائی سے مشروط ہے۔


