**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کراچی کے علاقے ناظم آباد میں سامنے آنے والے زچہ بچہ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس کے مطابق خاتون نے دورانِ تفتیش واقعے سے متعلق اہم حقائق بیان کیے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں نجی اسپتال اور اس کے عملے کی **مبینہ غفلت** بھی سامنے آئی ہے، جس کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون تقریباً ایک سال قبل حاملہ ہوئی تھی تاہم حمل ضائع ہونے کے بعد وہ مبینہ طور پر خاندان میں بے اولادی کے طعنوں کے خوف میں مبتلا ہوگئی اور اس نے خود کو حاملہ ظاہر کرنا شروع کردیا۔
حکام کے مطابق خاتون نے ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال کے گائنی وارڈ میں خود کو رجسٹرڈ کرایا اور مبینہ طور پر ایک الٹراساؤنڈ رپورٹ بھی اپنی فائل کا حصہ بنائی۔
پولیس کے مطابق خاتون نے حمل کے 38 ہفتے مکمل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دو روز قبل اسپتال سے رجوع کیا، جہاں اسے مبینہ طور پر ضروری ٹیسٹ مکمل کیے بغیر داخل کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق تقریباً 8 گھنٹے بعد اسے ادویات دی گئیں اور بے ہوشی کی دوا دے کر آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق آپریشن کے دوران لیڈی ڈاکٹر نے پیٹ میں بچہ موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی، جس کے بعد معاملہ سامنے آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ **خاندان کی جانب سے بے اولادی کے طعنوں سے بچنے کے لیے اس نے حمل کا جھوٹ بولا تھا۔** پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کو ایک ممکنہ معاشرتی متاثرہ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کی ہدایت پر واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق میڈیکل کمیشن کی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
تحقیقات میں **طبی رپورٹس، دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ** بھی شامل کیے گئے ہیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
یہ واقعہ خواتین کے لیے معاشرتی دباؤ، بے اولادی سے متعلق منفی رویوں اور صحت کی سہولیات میں ممکنہ غفلت کے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ کسی بھی مریض کو بروقت اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے، جبکہ طبی عملے کی جانب سے غفلت ثابت ہونے کی صورت میں شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ خاتون کے ساتھ بھی تفتیش کے دوران عزت، رازداری اور قانونی حقوق کا مکمل خیال رکھا جانا چاہیے۔
### انسانی حقوق سپورٹ اپیل
**ایچ آراین ڈبلیو (HRNW)** انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات اور تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ نجی اسپتال یا عملے کی مبینہ غفلت سمیت تمام الزامات حتمی تحقیقات اور میڈیکل کمیشن کی رپورٹ سے مشروط ہیں۔ حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔


