5

جنسی ہراسانی کیس: جونیئر کلرک ملازمت سے برطرف، 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، جنسی ہراسانی کے کیس میں وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین نے پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے جونیئر کلرک صدا حسین شاہ کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کردیا۔

وفاقی محتسب کے فیصلے کے مطابق صدا حسین شاہ پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جبکہ شکایت کنندہ خاتون کو 80 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے اور 20 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بطور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کام کرنے والی خاتون نے نومبر 2025 میں شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 14 نومبر 2025 کو صدا حسین شاہ ان کے دفتر میں داخل ہوئے اور مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے نازیبا حرکات کیں۔

وفاقی محتسب نے کیس کی کارروائی اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کیا، جس کے تحت ملازمت سے برطرفی اور مالی سزائیں عائد کی گئی ہیں۔

خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی خواتین کے وقار، تحفظ اور مساوی روزگار کے حق کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے معاملات میں متاثرہ افراد کو محفوظ شکایتی نظام، شفاف تحقیقات اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔

Support HRNW: خواتین کے حقوق، انسانی وقار، کام کی جگہ پر تحفظ، مساوی مواقع اور قانون کی حکمرانی سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔

ڈس کلیمر: یہ خبر وفاقی محتسب کے فیصلے اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ معاملے سے متعلق کسی اپیل یا مزید قانونی کارروائی کی صورت میں متعلقہ فورم کے فیصلے کو حتمی حیثیت حاصل ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں