اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مبینہ طور پر غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس اور غیر ملکی شہریوں کی نقل و حرکت میں سہولت کاری کرنے والے منظم نیٹ ورک کے خلاف ایف آئی آر نمبر 41/2026 درج کرلی ہے۔
ایف آئی آر اور تفتیشی ریکارڈ کے مطابق چینی شہری شیاؤ جِنگ پنگ عرف جیک/جیسن نے مبینہ طور پر تفتیش کے دوران بتایا کہ جنید مغل نامی IMPASS اہلکار نے مبینہ طور پر زفر اقبال نامی اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے کانسٹیبل اور دیگر افراد کے ساتھ ملی بھگت کرکے مسافروں کو امیگریشن کلیئرنس فراہم کی۔
تفتیشی ریکارڈ کے مطابق مبینہ طور پر ہر مسافر سے 80 ہزار روپے وصول کیے جاتے تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے دوران 2 کروڑ روپے نقد رقم بھی مبینہ طور پر برآمد کی گئی، جبکہ واٹس ایپ چیٹس اور ادائیگیوں سے متعلق ریکارڈ بھی تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق کیس میں مبینہ طور پر غیر قانونی امیگریشن سہولت کاری، مالی لین دین اور متعلقہ سرکاری اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ مزید تفتیش کے دوران نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد اور مبینہ مالی معاملات کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔
قانونی و انسانی حقوق کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق غیر قانونی امیگریشن نیٹ ورکس انسانی اسمگلنگ، استحصال اور مسافروں کے بنیادی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے، تاہم کسی بھی نامزد یا گرفتار شخص کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
Support HRNW: انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شفافیت، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد، شہریوں کے تحفظ اور عوامی مسائل سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔
ڈس کلیمر: یہ خبر ایف آئی اے کی ایف آئی آر اور فراہم کردہ تفتیشی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تمام الزامات اور مبینہ مالی لین دین کی حتمی قانونی حیثیت عدالت اور متعلقہ تفتیشی عمل کے نتائج سے طے ہوگی۔ نامزد افراد کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر میں شامل کیا جائے گا۔


