کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)، جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے یونائیٹڈ کنگ کے اشتراک سے نیشنل ٹری پلانٹیشن ڈے 2026 کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان میں جنگلی زیتون کی کاشت کے وسیع معاشی اور ماحولیاتی امکانات کو اجاگر کیا گیا۔
سیمینار میں ماہرین، دانشوروں اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ جنگلی زیتون جیسے کم استعمال ہونے والے قدرتی وسائل کو پائیدار انداز میں فروغ دے کر معاشی ترقی، زرمبادلہ کے حصول اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں جنگلی زیتون کی کاشت اور اس سے متعلق صنعت کو فروغ دینے سے نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت مل سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
اس موقع پر پاکستان میں زیتون کے موضوع پر مختص پہلی کتاب بھی رونمائی کی گئی، جسے زیتون سے متعلق آگاہی بڑھانے اور اس اہم موضوع پر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
ماحولیاتی اور عوامی مفاد کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق جنگلات اور زیتون جیسے پائیدار وسائل کا فروغ ماحولیاتی تحفظ، روزگار اور دیہی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ مقامی آبادیوں کو معاشی مواقع فراہم کرنا پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔
Support HRNW: انسانی حقوق، ماحولیاتی تحفظ، پائیدار ترقی، عوامی مسائل اور قومی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔
ڈس کلیمر: یہ خبر جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار سے متعلق فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ جنگلی زیتون کی کاشت کے معاشی و ماحولیاتی فوائد سے متعلق حتمی نتائج مزید سائنسی تحقیق اور عملی مطالعات سے مشروط ہیں۔


