اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے، جس کے باعث ملک میں تجارتی سرگرمیاں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے صدر **نبیل محمود طارق** نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات تاحال ڈیڈ لاک کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کے نظام کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے باعث درآمدی و برآمدی سامان، صنعتی خام مال اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے، جس سے ملک میں سپلائی چین کے مسائل اور معاشی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب کاروباری حلقوں نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد اور معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے جلد قابلِ قبول حل نکالا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو
پرامن احتجاج اور اپنے مطالبات پیش کرنا آئینی حق ہے، تاہم ضروری اشیاء کی فراہمی، عوامی سہولیات اور معاشی سرگرمیوں کا تسلسل بھی عوامی مفاد سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مؤثر مذاکرات کے ذریعے ایسا متوازن حل تلاش کرنا ضروری ہے جس سے ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات بھی زیرِ غور آئیں اور عوام کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** عوامی مسائل، مزدوروں کے حقوق، معیشت، گورننس اور انسانی حقوق سے متعلق آزاد، ذمہ دارانہ اور متوازن صحافت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔
آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
**ڈسکلیمر:** یہ خبر ٹرانسپورٹرز کی تنظیم کے بیان اور دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ مذاکرات، ہڑتال اور حکومتی اقدامات سے متعلق حتمی صورتحال متعلقہ حکام اور فریقین کے آئندہ سرکاری اعلانات سے واضح ہوگی۔


