بلدیاتی اداروں کے بجائے دیگر اداروں سے ترقیاتی کام کرانے کے خلاف درخواست

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو‌) سندھ ہائیکورٹ میں‌ بلدیاتی اداروں کے بجائے دیگر اداروں سے ترقیاتی کام کرانے کے خلاف درخواست

عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر کو نوٹس جاری کردیے

عدالت نے فریقین سے 29 مئی کو جواب طلب کرلیا

لوکل گورنمنٹ کے قانون 140 اے کے تحت شہر میں ترقیاتی کام کرانا منتخب نمائندوں کی زمہ داری ہے،محمد واوڈا ایڈووکیٹ

حکومت منتخب نمائندوں کو فنڈز دینے کے بجائے پرائیویٹ تشکیل دیے کر غیر قانونی ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز جاری کررہی ہے،محمد واوڈا

سپریم کورٹ نے جس پرائیویٹ کمپنی کا ٹنڈرز جاری کرنے سے روکا تھا سندھ حکومت اسی کمپنی کا نام تبدیل کرکے فنڈز جاری کررہی ہے،وکیل درخواست گزار

آپ حکم امتناع بھی حاصل کرنا چاہ رہے ہیں اور ہدایت بھی، کیا کیس آئینی بینچ کو منتقل نہیں ہونا چاہئے، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو

قانون کے مطابق ریگولر بنیچ بھی کیس کی سماعت کرسکتا ہے، وکیل درخواست

درخواست سٹی کونسل کراچی میں جماعت اسلامی کے اپوزیشن لیڈر سیف الدین اور 9ٹاونز چیئرمینز نے دائر کی ہے

درخواست میں وفاقی وزارت ہاوسنگ و ورکس ،پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو فریق بنایا گیاہے

سیکرٹری پلاننگ ڈ ڈپارٹمنٹ سندھ ، سیکرٹری بلدیات اور کے ایم سی کو بھی فریق بنایا گیا ہے

صوبائی حکومت نے 8اپریل سے 13مئی تک متعدد ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز جاری کیے ہیں، درخواست

آئین کے آرٹیکل 140 اے اور سندھ لوکل گورنمنٹ کے آرٹیکل 72 کے مطابق یہ بلدیاتی اداروں کا اختیار ہے ، درخواست

سڑکوں کی تعمیر ،کارپٹنگ، برساتی پانی کی نکاسی وغیرہ بلدیاتی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں،درخواست

حکومت کی جانب سے جاری کردہ ٹینڈرز کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا جائے، درخواست

درخواست کے فیصلے تک ان ٹینڈرز کو معطل اور مزید ٹینڈرز جاری کرنے سے روکا جائے ،درخواست

قرار دیا جائے کہ انفراء اسٹرکچر کی تعمیر اور ترقیاتی کام خصوصی طور پر بلدیاتی اداروں کا دائرہ اختیار ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں