15

انڈونیشیا کے علماء کا فتویٰ، مخالف جنس کا لباس پہننا ’’حرام‘‘ قرار

**جکارتہ (ایچ آراین ڈبلیو)** — انڈونیشیا میں مذہبی علماء کی جانب سے مخالف جنس کے لباس اختیار کرنے کے حوالے سے فتویٰ سامنے آیا ہے، جس میں اسے اسلامی تعلیمات کے منافی اور **حرام** قرار دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈونیشیا میں **LGBT سے متعلق سرگرمیوں اور ان کی تشہیر** کے حوالے سے مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشین علماء اور مذہبی تنظیمیں معاشرتی و مذہبی اقدار کے تحفظ اور LGBT سرگرمیوں کی روک تھام پر زور دے رہی ہیں۔

انڈونیشیا کی **مجلس علماء انڈونیشیا (MUI)** نے حالیہ مہینوں میں LGBT سرگرمیوں اور ان کی تشہیر کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید واضح کیا ہے۔ MUI نے LGBT سے متعلق سرگرمیوں اور مہمات کی روک تھام کے لیے قانونی اقدامات کی حمایت بھی کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق مذہبی حلقوں کا مؤقف ہے کہ مخالف جنس کا لباس پہننا روایتی صنفی حدود کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اس عمل کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

### Support HRNW

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** آزاد صحافت، انسانی حقوق کی آگاہی اور عوامی مفاد کی خبروں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ HRNW کی صحافتی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے:

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**Disclaimer:** یہ خبر انڈونیشیا کے مذہبی حلقوں اور دستیاب رپورٹس میں سامنے آنے والے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فتویٰ مذہبی رائے ہے، اسے خودبخود ریاستی قانون یا قانونی پابندی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مقامی قوانین اور سرکاری پالیسی الگ معاملہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں