**دمشق (ایچ آراین ڈبلیو)** — شام کی ایک عدالت نے سابق صدر **بشار الاسد** کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں **ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت** سنا دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق بشار الاسد کو شام کی تقریباً 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران **قتل، تشدد، من مانی گرفتاریوں اور انسانیت کے خلاف جرائم** کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔ یہ بشار الاسد کے خلاف پہلا باقاعدہ عدالتی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بشار الاسد دسمبر **2024** میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد شام سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے، جہاں انہیں پناہ دی گئی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی ان کی عدم موجودگی میں ہوئی۔
عدالت نے بشار الاسد کے بھائی **ماہر الاسد** اور سابق سیکیورٹی عہدیدار **عاطف نجیب** کو بھی سزائے موت سنائی ہے۔
یہ فیصلہ شام میں سابق حکومت کے دور میں ہونے والی مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر احتساب کی جانب ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بشار الاسد کی روس میں موجودگی کے باعث فیصلے پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
### Support HRNW
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** آزاد صحافت، انسانی حقوق کی آگاہی اور عوامی مفاد کی خبروں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ HRNW کی صحافتی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:** یہ خبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی تازہ رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے اور مقدمے سے متعلق مزید قانونی پیش رفت کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


