**تہران/مسقط (ایچ آراین ڈبلیو)** – امریکی اخبار **نیویارک ٹائمز** کی ایک رپورٹ کے مطابق **ایران اور عمان** آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق ایک **عبوری معاہدے** کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال ایرانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت **خلیج فارس میں داخل ہونے والے تجارتی جہاز ایرانی ساحلی راستے** سے جبکہ **خلیج سے باہر نکلنے والے جہاز عمان کے قریب واقع راستے** سے گزریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں جہاز رانی سے متعلق **”سروس فیس”** کا نظام بھی زیر غور ہے، جس کا مقصد سکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ اور انتظامی اخراجات کو پورا کرنا بتایا گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کی شرائط پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جبکہ بعض امریکی حکام نے ایران کے ممکنہ کردار اور مجوزہ فیس سے متعلق دعوؤں پر اختلاف کیا ہے۔
تاحال نہ ایران اور نہ ہی عمان نے اس مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات کی سرکاری سطح پر تصدیق کی ہے، اس لیے اس سے متعلق تمام اطلاعات کو ابتدائی رپورٹس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
—
**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**ڈسکلیمر:** یہ خبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔ مجوزہ معاہدہ تاحال حتمی یا سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں، اس لیے صورتحال میں مزید پیش رفت کے ساتھ معلومات تبدیل ہو سکتی ہیں۔


