**اوریگن، امریکا (ایچ آراین ڈبلیو)** – امریکا کی ریاست **اوریگن** کے **وٹ فورڈ مڈل اسکول** کے **13 سالہ ہونہار طالب علم** نے ہوا سے پانی بنانے والی منفرد مشین تیار کرکے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔
طالب علم کی اس جدید ایجاد کا مقصد **خشک سالی اور پانی کی قلت کا شکار علاقوں** میں صاف پانی کی فراہمی میں مدد فراہم کرنا ہے، جہاں پینے کے پانی تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق یہ مشین فضا میں موجود نمی کو جذب کرکے اسے قابلِ استعمال پانی میں تبدیل کرتی ہے، جس سے مستقبل میں پانی کی کمی کا سامنا کرنے والی آبادیوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی اختراعات موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور پانی کے بحران جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ کم عمر طلبہ کی سائنسی صلاحیتوں اور تخلیقی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
—
**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**ڈسکلیمر:** یہ خبر دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ اس ایجاد کی افادیت اور بڑے پیمانے پر عملی استعمال کا تعین مزید تحقیق، جانچ اور آزمائش کے بعد ہی ممکن ہوگا۔


