**لندن (ایچ آراین ڈبلیو):** برطانوی اخبار **فنانشل ٹائمز** کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں تہران نے اسٹریٹجک برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ واشنگٹن کے ردعمل کو بڑی حد تک ایران کی حکمت عملی سے متاثر قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ کے دوران جاری تنازع میں امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** نے متعدد مواقع پر ایران کے خلاف سخت بیانات اور انتباہات جاری کیے، تاہم بعد کی پیش رفت میں ان کے مؤقف میں نرمی دیکھی گئی، جسے اخبار نے ایران کے لیے ایک سفارتی اور عسکری فائدہ قرار دیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے ابتدائی اقدامات کے ذریعے تنازع میں پہل برقرار رکھنے کی کوشش کی، جن میں اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کا حوالہ بھی دیا گیا، جسے رپورٹ میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن کے **انصار اللہ** کی کارروائیوں نے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر عسکری اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
اخبار کے تجزیے کے مطابق، ایرانی قیادت کا اندازہ ہے کہ یا تو وہ امریکہ کو دوبارہ جنگ شروع کرنے سے باز رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی، یا اگر کشیدگی برقرار رہی تو امریکہ کو ایک طویل اور فرسائشی تنازع کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں پیش کیے گئے یہ تجزیے **فنانشل ٹائمز** کے مشاہدات اور ذرائع پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں پر امریکی یا ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
—
### 🤝 HRNW کو سپورٹ کریں
اگر آپ انسانی حقوق، عالمی امور اور مستند صحافت کے فروغ میں ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو HRNW کی حمایت کریں:
**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر ایک بین الاقوامی اخبار میں شائع ہونے والی تجزیاتی رپورٹ پر مبنی ہے۔ اس میں شامل تجزیے اور آراء متعلقہ اشاعت اور اس کے ذرائع سے منسوب ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ HRNW کے مؤقف کی نمائندگی کریں۔ مزید سرکاری یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


