**یروشلم (ایچ آراین ڈبلیو):** اسرائیلی اخبار **The Jerusalem Post** کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع اور **اسرائیل بیتینو** پارٹی کے سربراہ **آویگڈور لیبرمین** نے موجودہ علاقائی صورتحال، اسرائیلی حکومت اور امریکی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
رپورٹ کے مطابق لیبرمین نے کہا کہ **”ایران ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں؛ نہ اپنے جوہری پروگرام سے، نہ آبنائے ہرمز کے معاملے سے، اور نہ ہی خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت سے۔”**
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل اپنی اسٹریٹجک خودمختاری بتدریج کھوتا جا رہا ہے۔
لیبرمین نے امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ **”یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ٹرمپ اعلان کریں کہ ہم ایران پر حملہ نہیں کریں گے، اور پوری دنیا ہماری طرف سے فیصلے کرے۔ ہم ایک ‘بنانا ریپبلک’ بن چکے ہیں۔”**
سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع نے وزیرِ اعظم **بنیامین نیتن یاہو** پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ایران اور لبنان سے متعلق معاملات میں امریکی فیصلوں کے مقابلے میں مؤثر مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث اسرائیل کی آزادانہ فیصلہ سازی متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بیان کیے گئے یہ خیالات آویگڈور لیبرمین کے ذاتی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکومت یا امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
—
### 🤝 HRNW کو سپورٹ کریں
اگر آپ انسانی حقوق، عالمی امور اور مستند صحافت کے فروغ میں ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو HRNW کی حمایت کریں:
**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ اور آویگڈور لیبرمین سے منسوب بیانات پر مبنی ہے۔ اس میں شامل آراء متعلقہ شخصیت کے اپنے مؤقف کی نمائندگی کرتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ HRNW یا دیگر اداروں کے مؤقف کی عکاس ہوں۔ واقعے سے متعلق مزید سرکاری یا سفارتی ردِعمل سامنے آنے کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


