**بیجنگ (ایچ آراین ڈبلیو)** – چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی قومی کرنسی **یوان (Renminbi)** کو عالمی ذخیرہ جاتی (ریزرو) کرنسی کے طور پر فروغ دینے کی حکمت عملی پر عمل درآمد تیز کرے گا، جس کا مقصد عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا اور بین الاقوامی تجارت میں یوان کے استعمال کو وسعت دینا ہے۔
چینی حکام کے مطابق حکومت مختلف ممالک کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں، مالیاتی تعاون اور سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو فروغ دے رہی ہے تاکہ بین الاقوامی لین دین میں یوان کا استعمال بڑھایا جا سکے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین عالمی تجارت میں یوان کے کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکی ڈالر اب بھی دنیا کی سب سے بڑی ذخیرہ جاتی کرنسی ہے اور عالمی مرکزی بینکوں کے ذخائر، بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی منڈیوں میں اس کا غلبہ برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یوان کو مکمل طور پر ڈالر کا متبادل بنانے کے لیے چین کو مالیاتی منڈیوں میں مزید شفافیت، سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متعدد ممالک بین الاقوامی تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی مختلف حکمت عملیوں پر کام کر رہے ہیں۔
—
### **HRNW کی حمایت کریں**
انسانی حقوق، انصاف، امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق مستند خبریں، تحقیقی رپورٹس اور عالمی آگاہی مہمات جاری رکھنے میں **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر دستیاب سرکاری بیانات اور بین الاقوامی ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس خبر میں بیان کردہ دعووں اور پالیسی اعلانات کو ان کے اصل تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** غیر جانبدار صحافتی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو ترجیح دیتا ہے۔


