**واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو)** – امریکا نے ایران پر آبنائے ہرمز کے ذریعے مبینہ طور پر آمدنی حاصل کرنے کے الزامات کے تحت مزید 10 اداروں اور 8 آئل ٹینکروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں سے 6 ادارے چین میں قائم ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو آمدنی کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی مبینہ کوششوں کے پیش نظر ان اداروں اور بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اقدامات کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں، جن کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے **پرشین گلف میرین انشورنس کمپنی** اور **ہرمز سیف میرین سروسز اتھارٹی** پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ دونوں ادارے ایران کی اس مبینہ اسکیم میں اہم کردار ادا کر رہے تھے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے مختلف بیمہ پالیسیوں کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثے اور دیگر مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور حکومت مالی وسائل کے حصول کے لیے مختلف ذرائع اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کو عالمی تجارت یا بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو دہشت گردی، جارحیت یا دیگر سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
رپورٹ کے مطابق نئی پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت ایران پر معاشی اور دیگر ذرائع سے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حکام کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک ایران کے مبینہ “شیڈو فلیٹ” سے منسلک 100 سے زائد بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
—
### **HRNW کی حمایت کریں**
انسانی حقوق، انصاف، امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق مستند خبریں، تحقیقی رپورٹس اور عالمی آگاہی مہمات جاری رکھنے میں **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر معتبر بین الاقوامی ذرائع سے دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** غیر جانبدار صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اور کسی بھی ملک، حکومت یا ادارے کے مؤقف کی توثیق یا تردید نہیں کرتا۔ اگر متعلقہ فریق کی جانب سے کوئی وضاحت یا مؤقف سامنے آتا ہے تو اسے بھی صحافتی اصولوں کے مطابق شائع کیا جائے گا۔
اگر چاہیں تو میں اس خبر کا **SEO عنوان، مختصر میٹا ڈسکرپشن، یوٹیوب ڈسکرپشن، اور سوشل میڈیا کیپشن** بھی HRNW اسٹائل میں تیار کر سکتا ہوں۔


