**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – برطانوی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکا سے **پانچ سالہ مدت کے لیے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ زرِ مبادلہ استحکام سہولت (Bilateral Foreign Exchange Stabilization Facility)** فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجویز امریکی وزیرِ خزانہ **اسکاٹ بیسنٹ** کو پیش کی گئی ہے۔ اگر اس درخواست کی منظوری ملتی ہے تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ میں کمی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایران سے متعلق حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار اور تہران و واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں مبینہ سہولت کاری کے بعد سامنے آئی ہے۔
تاہم خبر کے مطابق **پاکستان کی وزارتِ خزانہ** اور **امریکی محکمۂ خزانہ** کی جانب سے اس درخواست یا رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کی مالی سہولت منظور ہوتی ہے تو اس سے پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو استحکام مل سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان سرکاری مذاکرات اور فیصلوں پر منحصر ہوگی۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) اس دعوے یا مجوزہ مالی سہولت کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ اس معاملے سے متعلق حتمی معلومات پاکستان کی وزارتِ خزانہ، امریکی محکمۂ خزانہ یا دونوں حکومتوں کے باضابطہ بیانات کے بعد ہی یقینی سمجھی جائیں گی۔


