**واشنگٹن/تل ابیب (ایچ آراین ڈبلیو)** – امریکی اخبار **وال اسٹریٹ جرنل (WSJ)** نے اسرائیلی اور امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والی ہزاروں سینٹری فیوج مشینیں ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین مقام **”پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain)”** منتقل کر دی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ مقام، جسے ایران میں **ماؤنٹ کولنگ (Mount Kolang)** کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نطنز کے قریب واقع ایک گہرا زیرِ زمین کمپلیکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی سرنگیں تقریباً 300 سے 450 فٹ تک سخت چٹان کے اندر ہیں، جس کے باعث اسے فضائی حملوں سے نشانہ بنانا انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔
### **اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ**
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مبینہ انٹیلی جنس معلومات امریکہ کے ساتھ شیئر کیں، جن میں کہا گیا کہ ایران نے اپنی حساس جوہری تنصیبات کو محفوظ رکھنے کے لیے سینٹری فیوجز کو اس نئے مقام پر منتقل کیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران مستقبل میں اس کمپلیکس کو یورینیم افزودگی یا دیگر حساس جوہری سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
### **”پک ایکس ماؤنٹین” کمپلیکس کیا ہے؟**
رپورٹ کے مطابق اس زیرِ زمین کمپلیکس کی تعمیر 2020 میں نطنز میں موجود سینٹری فیوج اسمبلی تنصیب کو نقصان پہنچنے کے بعد شروع کی گئی تھی۔ ایران نے ماضی میں کہا تھا کہ یہ مقام حساس آلات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم اس کی مکمل سرگرمیوں کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں سرنگوں کی مضبوطی، بھاری ٹریفک اور سکیورٹی اقدامات میں اضافے کے آثار دیکھے گئے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کمپلیکس پر کام جاری ہے۔
### **IAEA کو رسائی حاصل نہیں**
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو اس مقام تک رسائی حاصل نہیں ہے، جس کے باعث وہاں جاری سرگرمیوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سابق امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر ایران اس مقام پر خفیہ طور پر یورینیم افزودگی شروع کرے تو اس کی نگرانی کرنا عالمی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔
### **ٹرمپ کا بیان**
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں “پک ایکس ماؤنٹین” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقام ایک ممکنہ ہدف ہو سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
### **ایران کا مؤقف**
رپورٹ کے مطابق ایران نے ان دعوؤں پر باضابطہ ردِعمل نہیں دیا، تاہم تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔
انسانی حقوق اور عالمی امن کے تناظر میں جوہری تنازعات، فوجی کشیدگی اور ممکنہ حملوں سے متعلق معاملات میں سفارتی حل، شفاف نگرانی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور عام شہریوں کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ عالمی ادارے جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں۔
HRNW اس معاملے کو عالمی امن، جوہری سلامتی اور انسانی تحفظ کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی حکومت، ادارے یا فریق کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل دعوے متعلقہ ذرائع اور فریقین سے منسوب ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں ممکن نہیں، جبکہ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور تحقیقات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔


