5

دہلی میں تصادم اور پارلیمنٹ سے متعلق سوشل میڈیا دعوے

**نئی دہلی (ایچ آر این ڈبلیو)** – سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ **دہلی کے جنتر منتر** میں احتجاج کے دوران شدید تصادم ہوا، جس میں **7 مظاہرین ہلاک، 391 زخمی، 32 افراد کی حالت تشویشناک** جبکہ **250 سے زائد مظاہرین کو بھارتی سکیورٹی فورسز اور دہلی پولیس نے گرفتار** کر لیا۔

ان دعوؤں میں مزید کہا گیا ہے کہ احتجاجی طلبہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر گئے، پارلیمنٹ کے اندر کشیدہ صورتحال پیدا ہوئی اور سکیورٹی اہلکاروں نے طلبہ پر اسلحہ تان لیا۔ بعض پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم **نریندر مودی** کو فوری طور پر پارلیمنٹ سے نکال دیا گیا۔

تاہم **ان تمام دعوؤں کی کسی معتبر سرکاری ذریعے یا آزاد اور قابلِ اعتماد بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔** دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان دعوؤں کی صحت کی آزادانہ توثیق ممکن نہیں۔

### **انسانی حقوق کا زاویہ**

**ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** اس بات پر زور دیتا ہے کہ **پرامن اجتماع، آزادیٔ اظہار اور احتجاج کا حق** بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہیں۔ اسی طرح ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے **قانون کے مطابق، متناسب اور ضروری طاقت** کا استعمال کریں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔

اگر کسی احتجاج کے دوران جانی نقصان، زخمی ہونے یا گرفتاریوں کے واقعات پیش آئیں تو ان کی **شفاف، غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات** ہونی چاہئیں اور تمام متاثرہ افراد کو قانون کے مطابق انصاف تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں**

👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### ⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**

اس خبر میں بیان کردہ واقعات اور اعداد و شمار **سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں** پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ HRNW غیر مصدقہ معلومات کو حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرتا اور قارئین کو مشورہ دیتا ہے کہ ایسی معلومات کے لیے سرکاری بیانات اور معتبر ذرائع سے تصدیق کا انتظار کریں۔ HRNW کا مقصد انسانی حقوق، درست معلومات اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں