**صنعاء (ایچ آر این ڈبلیو)** — یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف فوری طور پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے اور عام شہریوں پر اس کے ممکنہ انسانی اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے جواب میں سعودی عرب کے خلاف بحری پابندیاں فوری طور پر نافذ کی جا رہی ہیں، جنہیں انہوں نے “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی قرار دیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ صنعاء ایئرپورٹ کی ناکہ بندی برداشت نہیں کی جائے گی اور محاصرے کا جواب محاصرے سے دیا جائے گا۔
**انسانی حقوق کا زاویہ**
ایچ آر این ڈبلیو کا مؤقف ہے کہ بحری یا فضائی ناکہ بندیاں، فوجی کشیدگی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں عام شہریوں کے لیے خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ شہری آبادی کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور تنازع کے پرامن حل کو ترجیح دیں۔
**انسانی حقوق کی صحافت کی حمایت کریں**
**انسانی حقوق کی صحافت کے فروغ اور ہمارے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ہمارا ساتھ دیں:**
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**دستبرداری (Disclaimer):** یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس اور متعلقہ فریقین کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بعض دعوے آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ ایچ آر این ڈبلیو کسی بھی عسکری، سیاسی یا مسلح فریق کی حمایت نہیں کرتا بلکہ صرف انسانی حقوق، عام شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کی حمایت کرتا ہے۔


