5

سندھ ہائیکورٹ: کراچی کے تاجر نے تین ڈی آئی جیز اور تین ایس ایس پیز کے خلاف درخواست دائر؛ 36 کروڑ سے زائد بھتہ وصولی کا الزام

کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) — سندھ ہائیکورٹ میں کراچی کے ایک تاجر نے پولیس کے تین ڈی آئی جیز اور تین ایس ایس پیز کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس افسران کے نام پر ان سے 36 کروڑ روپے سے زائد بھتہ وصول کیا گیا ہے۔ درخواست گزار محمد نعمان کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے ان سے 70 سے 80 لاکھ روپے کی رقم وصولی کی جاتی رہی ہے۔

درخواست میں جن افسران کے نام شامل ہیں
درخواست میں مندرجہ ذیل افسران کے نام شامل کیے گئے ہیں:
– ڈی آئی جیز: اظفر مہیسر، اسد رضا، عرفان بہادر
– ایس ایس پیز: خالد مصطفیٰ کورائی، مرتضیٰ تبسم، زبیر شیخ

درخواست گزار کے دلائل
تاجر محمد نعمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ واجد شیخ نامی شخص پولیس کے نام پر انہیں بلیک میل کرتے ہیں اور باقاعدگی سے بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے، آئی جی سندھ اور متعلقہ ایس ایچ اوز کو حکم دیا جائے کہ وہ معاملے کی انکوائری کرائیں، اور درخواست گزار اور ان کے اہل خانہ کو بھتہ مافیا سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ [youtube](https://www.youtube.com/watch?v=-FVvqy2tF3E)

قانونی اور انسانی حقوق کا پہلو
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ ریاستی اداروں سے منسوب بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار تحقیقات ہونی چاہئیں۔ شہریوں کے تحفظ، ان کے جائز کاروباری حقوق اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ ملزمان کے قانونی حقوق اور فریقین کے انصاف تک رسوب کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔

🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں
👉 https://www.hrnww.com/?page_id=1083

⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر درخواست کے متن اور ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ عدالت کی سماعت، مزید کارروائی اور حتمی نتائج کے بارے میں تفصیلات سندھ ہائیکورٹ اور متعلقہ محکموں کی باضابطہ اطلاعات میں ملیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں