بہاولنگر (ایچ آر این ڈبلیو) — بہاولنگر کی جامعہ انوار غوثیہ میں قرآن پاک کی تعلیم دینے والے قاری فضل الرحمن پر ایک نوعمر شاگردہ کو مسلسل دو سال تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور اسے حاملہ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ متاثرہ طالبہ، جس کی عمر 14 سے 15 سال بتائی جاتی ہے، گزشتہ دو سال سے مدرسے میں حفظ قرآن کر رہی تھی اور دورانِ تعلیم مبینہ طور پر جنسی ہراسانی اور زیادتی کا شکار ہوتی رہی۔
جب طالبہ حاملہ ہوئی تو اس نے اپنی والدہ کو اس گھناؤنے فعل سے آگاہ کیا۔ والدہ نے فوری طور پر متعلقہ پولیس اسٹیشن میں قاری فضل الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ پولیس نے الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم اب تک ملزم فرار ہے۔
مقامی ردِ عمل اور مطالبات
مقامی حلقوں میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مظاہرین نے مدارس میں بچیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع منصوبہ بندی، اساتذہ کی اسکریننگ، بچوں کے تحفظ کے پروٹوکول اور فوری انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔
انسانی حقوق اور قانونی پہلو
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی زیادتی ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ کو تحفظ، طبی و نفسیاتی امداد اور انصاف فراہم کرے۔ مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے لیے سخت ضوابط، پس منظر کی جانچ پڑتال، شکایات کے محفوظ چینلز اور تیز رفتار ٹرائل کا نظام ہونا چاہیے۔
⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر ابتدائی اطلاعات، پولیس رپورٹس اور مقامی ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات، تفتیشی پیش رفت اور عدالتی کارروائی کے نتائج متعلقہ محکموں کی باضابطہ اطلاعات میں ملیں گے۔


