6

مدرسے میں 12 سالہ بچے کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے بعد زہر دے کر قتل، ملزم گرفتار

ٹنڈوالہیار (ایچ آر این ڈبلیو) – ایک المناک واقعے میں ایک مدرسے کے 12 سالہ طالبعلم کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد زہر دے کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کا مرکزی ملزم مدرسے کا ایک طالبعلم، نور علی، ہے جو کئی روز تک نشہ آور گولیوں کا اوور ڈوز کراتے ہوئے مبینہ طور پر متاثرہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرتا رہا۔

ذرائع نے بتایا کہ نشہ آور گولیوں کا اوور ڈوز دینے کے باعث متاثرہ بچے کی موت واقع ہوئی۔ واقعے کی ابتدائی تفتیش میں طبی و فرانزک نمونوں کے مِلنے کے بعد ملزم نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے۔

مقتول بچے کے ورثاء کی مدعیت میں تھانہ چمبڑ پر قتل اور جنسی زیادتی کے متعلق مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ملزم کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیش جاری ہے اور پولیس مزید شواہد اور گواہوں کے بیانات حاصل کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کا زاویہ
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد اور ہلاکت کے واقعات کی آزاد، شفاف اور مؤثر تحقیقات ناگزیر ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف، مناسب طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جانی چاہیے اور قانونی عمل کے دوران ملزمان کو منصفانہ سماعت اور قانونی دفاع کے حقوق دیے جائیں۔ ساتھ ہی بچوں کی حفاظت کے مؤثر اقدامات، مدرسوں میں نگرانی اور پیشگیرانہ پالیسیاں ضروری ہیں تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں
👉 https://www.hrnww.com/?page_id=1083

⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر دستیاب پولیس ذرائع اور ابتدائی تفتیشی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کسی بھی فرد کی قانونی ذمہ داری یا جرم کا حتمی تعین صرف مجاز عدالت کرے گی۔ ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کا مقصد انسانی حقوق، شفاف احتساب اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں