نیویارک (ایچ آراین ڈبلیو) امریکی ریاست وسکونسن کی گورنر شپ کی امیدوار اور ڈیموکریٹک رکنِ اسمبلی فرانسسکا ہونگ اسرائیل سے متعلق اپنے مؤقف کے باعث سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔ جیوش ٹیلی گرافک ایجنسی (JTA) نے انہیں “وسکونسن کی ممدانی” قرار دیا ہے، جس کا اشارہ نیویارک کے ترقی پسند سیاست دان زہران ممدانی سے تشبیہ کی طرف ہے۔
فرانسسکا ہونگ، جو ایک سابق شیف، کمیونٹی آرگنائزر اور سنگل مدر ہیں، اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی کے خاتمے، محنت کش طبقے کی حمایت اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر تنقید کو نمایاں کر رہی ہیں۔ انتخابی مہم کے آغاز پر انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام عام لوگوں کے خلاف ہے اور وہ اسے تبدیل کرنے کے لیے گورنر بننا چاہتی ہیں۔
اسرائیل سے متعلق ان کے مؤقف پر وسکونسن کے بعض یہودی ووٹروں نے تنقید کی ہے۔ ہونگ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کو یہود دشمنی (اینٹی سیمیٹزم) کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) سے کسی قسم کی مالی معاونت یا انتخابی فنڈز قبول نہیں کریں گی۔
دوسری جانب، امریکی اخبار Milwaukee Journal Sentinel کے مطابق فرانسسکا ہونگ نے دسمبر 2023 میں ایک اسرائیلی پرچم کی توڑ پھوڑ کے واقعے پر پولیس سے رابطہ کرنے پر بعد میں معذرت کی اور کہا کہ انہیں اس فیصلے پر گہرا افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ اسرائیل مخالف احتجاج اور یہود دشمنی میں فرق کو درست انداز میں سمجھنا ضروری ہے۔
⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر امریکی میڈیا رپورٹس اور امیدوار کے سرکاری بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات اور انتخابی نتائج متعلقہ اداروں کی باضابطہ اطلاعات میں جاری کی جائیں گی۔


