24

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا امریکا کو انتباہ، حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا اعلان

**تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر **محمد باقر قالیباف** نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔

اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا نے اب تک یہ سبق نہیں سیکھا کہ دباؤ، دھمکیوں اور وعدہ خلافیوں کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکا پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری اقدامات سے گریز کرے، کیونکہ ایسے فیصلے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے **آبنائے ہرمز** سے متعلق بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کے معاملات ایران کے انتظامات اور پالیسیوں کے مطابق ہوں گے، نہ کہ بیرونی دباؤ یا دھمکیوں کے تحت۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان **اسماعیل بقائی** نے نیٹو سیکریٹری جنرل **مارک روٹے** کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات بعض یورپی ممالک کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے اقدامات میں شمولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ جن ممالک نے اپنی سرزمین، فوجی اڈے یا دیگر تنصیبات کسی کارروائی کے لیے فراہم کیں، وہ اس کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سے خود کو الگ نہیں کر سکتے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران، امریکا اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی فراہمی اور سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ماہرین زور دیتے ہیں کہ کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

امن، انسانی حقوق، عالمی امور اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔

👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ **ڈسکلیمر**

یہ خبر متعلقہ حکام کے بیانات اور دستیاب عوامی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ HRNW تمام فریقین کے مؤقف کو رپورٹنگ کے اصولوں کے مطابق پیش کرتا ہے اور کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔ بین الاقوامی معاملات سے متعلق تمام الزامات اور مؤقف متعلقہ فریقین کے بیانات پر مبنی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں